ابنا: بان کی مون نے کل ایک بیان جاری کیا جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ہم توقع کررہے ہیں کہ جامع تحقیقات کے بعد حقائق واضح ہوں گے اور ذمہ دار عناصر اس واقعے کے لۓ جواب دہ ہوں گے۔ بان کی مون نے تمام حکومتی عہدیداروں اور فوجی اہلکاروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عام شہریوں کی حمایت کریں۔ واضح رہے کہ ایک امریکی فوجی نے اتوار کے دن صوبۂ قندھار میں واقع پنجوائی دیہات میں عام شہریوں پر حملہ کرکے ان میں سے سترہ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا ۔
مرنے والوں میں نصف سے زیادہ خواتین اور بچے تھے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس جرم میں صرف ایک فوجی ملوث تھا جبکہ صوبۂ قندھار کے مقامی حکام کہتے ہیں کہ اس قتل عام کا ارتکاب متعدد امریکی فوجیوں نے کیا ہے۔ عالمی راۓ عامہ کے دباؤ اور وسیع پیمانے پر ہونے والے احتجاج کی وجہ سے امریکی وزیر جنگ لئون پانیٹا بدھ کے دن اچانک افغانستان پہنچے جس کا مقصد ان عوامی مخالفتوں میں کمی لانا ہے جن کے قابضوں کے خلاف انقلاب میں تبدیل ہوجانے کا امکان پایا جاتا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب افغانستان کی علماء کونسل نے اس ملک کے مقامی حکام اور عوام کے ساتھ مل کر مجرم امریکی فوجیوں کے خلاف مقدمہ چلاۓ جانے کا مطالبہ کیا ہے لیکن امریکی حکام اس مطالبے کی مخالفت کررہے ہیں۔ امریکی حکام کا یہ اقدام در حقیقت کیپیچولیشن کے حق کا استعمال ہے جو وہ افغانستان میں قابض فوجیوں کے لۓ قائل ہیں۔ اور جس کی رو سے افغانستان کی عدالت مجرم فوجیوں کی گرفتاری اور ان پر مقدمہ چلانے کا حق نہیں رکھتی ہے۔ اس سے پہلے امریکی فوجی عدالت نے مجرم امریکی فوجیوں پر جس انداز میں مقدمہ چلایا وہ ان کی آزادی پر منتج ہوا اور یہ چیز امریکی فوجیوں کے زیادہ گستاخ ہونے کا باعث بنی۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے عوام پر امریکی فوجیوں کے مظالم میں شدت آتی جارہی ہے۔ اور عالمی راۓ عامہ امریکی صدر کے اس بیان کو سنجیدگي سے نہیں لیتی ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ امریکہ اس واقعے کے سلسلے میں سخت نوٹس لے گا اور وہ یہ سمجھے گا کہ گویا اس واقعے میں مارے جانے والے افراد اور بچے امریکی شہری تھے۔ عالمی راۓ عامہ امریکی صدر کے اس بیان کو کھوکھلا بیان قرار دے رہی ہے۔ اس صورتحال میں سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کےمظالم اور ان کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی کی روک تھام کے سلسلے میں اقوام متحدہ پر سنگین ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ اور افغان عوام کے نزدیک یہ بات قابل قبول نہیں ہے کہ بان کی مون اپنی ذمے داری سے بچنے کے لۓ صرف ایک بیان پر اکتفا کریں۔ حالیہ مہینوں کے دوران امریکی فوجیوں نے افغانستان میں تفریح کی خاطر عام شہریوں کے قتل عام ، ان کی انگلیاں کاٹنے اور قرآن کریم کو نذر آتش کرنے جیسے بہت زیادہ جرائم اور مظالم کا ارتکاب کیا ہے۔ جن کے خلاف امریکی حکومت اور فوج نے نہ صرف کوئي نوٹس نہیں لیا ہے بلکہ ان کی بے اعتنائي جرائم جاری رکھنے کے سلسلے میں امریکی فوجیوں کے زیادہ گستاخ ہونے کا باعث بنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خیال کیا جارہا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں پر مقدمہ چلاۓ جانے سے متعلق بان کی مون اور امریکی حکام کے بیانات کا مقصد افغان عوام کے اس احتجاج کی شدت کو کم کرنا ہے جو قابضوں کو اپنی لپیٹ میں لیا چاہتا ہے۔........
/169